ابنا: امريکي صدر کي قومي سلامتي کي مشير سوزن رائس نے کہا ہے کہ وائٹ ہاوس ماسکو واشنگٹن تعلقات پر نظر ثاني کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے امريکہ اور يورپي کي ساري توجہ اقتصادي معاملات پر رہي اور ہم چاہتے تھے کہ روس کے ساتھ اتحاد کے ذريعے عالمي معيشت کو بہتر سے بہتر بنايا جائے۔ سوزن رائس نے کہا کہ روس نے يوکرين ميں جو کچھ کيا ہے اس سے بقول ان سے يہ ملک عالمي قوانين نے باہر نکل کر کسي اور راستے پر چل پڑا ہے۔يوکرين کا بحران شروع ہونے کے بعد سے روس ارو مغرب کے درميان تعلقات ميں کشيدگي ميں زبردست اضافہ ہوتا جارہا ہے اور مغربي ملکوں اور امريکہ نے روس کے پابندياں سخت کرنے کي دھمکي دي ہے۔ روس پہلے ہي کہہ چکا ہے کہ وہ امريکہ اور مغرب کي جانب سے عائد کي جانے والي ہر پابندي کا راست جواب دے گا۔ روسي صدر کے ترجمان دي متري پسکوف نے ان کا ملک امريکہ اورمغرب کي جانب سے عائدہ کردہ نئي پابنديوں کو اسي طرح جواب دے گا جس طرح پہلے مرحلے ميں لگائي جانے والي پابنديوں کا ديا ہے۔ کريملن ہاوس کے چيف آف اسٹاف سرگئي ايوانوف نے پابنديوں کو ناقابل قبول قرار ديتے ہوئے کہا ہے اس مغرب کے ان اقدامات پر خاموش نہيں رہے گا اور مناسب وقت پر جوابي اقدامات کئے جائيں گے۔دوسري جانب اطلاعات ہيں کہ امريکہ اور گيارہ دوسرے ملکوں نے بلغاريہ کے مشرقي سمندر ميں مشترکہ بحري مشقين شروع کرديں ہيں، ان بحري مشقوں ميں يوکرين، ترکي اور نيٹو کے کئي ممالک کي فوجيں امريکي فوجيوں کے ساتھ حصہ لے رہي ہيں۔درايں اثنا يوکرين کي مغرب نواز رہنما اور سابق وزيراعظم جوليا تيموشنکوف نے اپنے ايک انٹرويو ميں کہا ہے کہ صدر پوتین نے ہمارے خلاف اعلان جنگ کرکے يوکرين کو ہميشہ کے لئے کھوديا ہے۔انہوں نے صدر پوتین کو يوکرين کا دشمن نمبر ايک قرار ديتے ہوئے کہا کہ اگر روس نے حملہ کيا تو ان کا ملک پوري قوت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہميں اس بات کے لئے پوري طرح تيار رہنا چاہيے کہ صدر پوتین کب ہماري ريڈ لائن کو عبور کرتے ہيں، کريميا کے روس سے الحاق سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ مغرب کو کريميا ميں ريفرنڈم کے نتائج کو کسي صورت ميں قبول نہيں کرنا چاہيے۔اسي دوران اطلاعات ہيں کہ روس اور کريميا کے عوام نے اس علاقے کے روس کے ساتھ الحاق کا جشن ميايا ہے، جشن کي يہ تقريب ماسکو اور جزيرہ نمائے کريميا کے صدر مقام سيفروپل ميں ايک ساتھ منقعد ہوئي اور اس ميں ہزاروں افراد شريک تھے۔ اس موقع پر ماسکوں کے ريڈ اسکوائر پر سيکڑوں افراد جمع ہوئے اور انہوں نے کريميا کے الحاق کي خوشي ميں آتشبازي کا مظاہر بھي کيا۔ کريميا کے دوسرے بڑے شہر سواستوپل ميں بھي ہزاروں افراد نے سڑکوں نکل کر روس کے ساتھ الحاق کي خوشي ميں مظاہرے کئے ہيں۔......./169
21 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 514576
امريکي صدر کي قومي سلامتي کي مشير سوزن رائس نے کہا ہے کہ وائٹ ہاوس ماسکو واشنگٹن تعلقات پر نظر ثاني کر رہا ہے۔